پیر، 18 دسمبر، 2017

نعت شریف


عرب کے صحراؤں میں جیسے موسمِ بہار آئے.
اندھیروں میں روشنی کی طرح میرے سرکار آئے.

آپ ص آئے تو بُت ٹُوٹے، بجھ گئے آتش کدے،
آپ آئے تو سوکھے پھولوں پر بھی تازہ نکھار آئے.

وہ جہالت کی وادی، جہاں زندہ درگور ہوتی تھی بیٹیاں،
اب وہاں پر بیٹیوں کے نام پر بھی پیار آئے.

جس کو بھی سینے سے لگایا، اس کی قسمت بدل گئی.
صدیق و عمر آئے، یا عثمان و حیدر کرّار آئے.

محبت ایسی بانٹی، کہ پتھر دِل بھی موم بنتے گئے.
جو جان لینے گئے، وہ اپنی ہی جان وار آئے.


خوش نصیبی ہے ہماری،  امتی ہیں، امام الانبیاء ص کے تنہا،
گرمیِ محشر میں شافعیِ محشر سایہ بن کر ہربار آئے.



جمعرات، 7 دسمبر، 2017

قومی المیہ

قومی المیہ:

غیرمُلکی زبان سیکھی تو جا سکتی ہے، مگر غیرمُلکی زبان میں دی جانے والی تعلیم کو سمجھنا، اور اس کے مطابق تخلیقی صلاحیتوں کی نشونما کرنا ناممکن ہے. یہی وجہ ہے کہ ہم آزادی کے ستر سال بعد بھی تخلیقی سائنس کے میدان میں دنیا سے سو سال پیچھے ہیں.
 ***اِظہارِ رائے***

پیر، 13 نومبر، 2017

امریکی خلائی ادارے " ناسا(ں کُھلیاں)" کے نام "بند خط "

امریکی خلائی ادارے " ناسا(ں کُھلیاں)" کے نام "بند خط ":

 محترم جناب مہان ناساں والو! میری بات پر دھیان بالکل نه دو.
ہم آپ سے نہایت ہی " بے ادبی" کے ساتھ گزارش کرتے ہیں، کہ آپ کی جو "بے پر واز" مریخ سیارے کی طرف  ناقابلِ واپسی سفر شروع کرنے والی ہے، اُس " بے پر واز" میں ہمارے ملک کی دو (قابلِ پرواز روح والی) شخصیات کو بھی لے جایا جائے. جو درج ذیل ہیں:
(ا)     " نواش ریف "
(ب)   "  مران کھان "
کیوں کہ مریخ پر کوئی پاکستان موجود نہیں ہے، تو وہاں " مران کھان " نیا پاکستان بنائے گا.  جبکه وہاں کی خلائی مخلوق کی سفری سہولیات کے لیے " نواش ریف" سڑکیں بنا کر میٹرو چلائے گا.
اس طرح مریخ کو  ترقی ملے گی. اور زمین والے پاکستان کو روز روز کی بک بک سننے سے نجات ملے گی. ہم آپ کو پورا یقین دلاتے ہیں کہ اگر ان دونوں میں سے کسی نے کرپشن کی، تو ہم اس کے ذمہ دار ہرگز نہیں ہوں گے.
العـــــــــــــــــــــــــــــــــارض
آپ کو بُرا بھلا کہنے والا
ہر  "پاکستانی"
بقلم خود رائے یوسف

بدھ، 8 نومبر، 2017

"پاکستان" کو " کافرستان" بنانے کے اہم اقدامات

"پاکستان" کو " کافرستان" بنانے کے اہم اقدامات:
 تعفن زده جمہوری نظام کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ ایسے اقدامات کیے، جس سےابلیس کو راحت ملے، لیکن مسلم قوم کے دلوں پر گہرے زخم لگیں.
"نان مسلم لیگ" کی پاکستان پر قابض حکومت نے جب جمعہ کی چھٹی ختم کرکے اتوار کی چھٹی نافذ کرتے ہوئے مسجد گرا کر کلیسا تعمیر کرنے کا اعلان کیا، تو کسی بھی جمہوری پارٹی، اپوزیشن یا دوسری صوبائی حکومتوں نے اس سے اختلاف نہیں کیا، یعنی ثابت کردیا کہ
منافقت کے سایے تلے سب ایک ہیں. اس کے بعد آنے والے قابض آمر (لعنت اللہ علیہ) نے بھی جمعہ کی چھٹی بحال نہیں کی. بعد میں آنے والی قاتل لیگ اور (بھنگ) پی پی پی، دیگر پارٹیوں اور صوبوں میں موجود حکومتوں، حتٰی کہ اسلام کے نام پر چورن بیچنے والی متحدہ مجلس (بے) عمل نے بھی صوبائی سطح پر جمعہ کی چھٹی بحال نہ کرتے ہوئے، نان مسلم لیگ سے متفق ہونا ثابت کردیا.
کفر کے نفاذ میں ایک اور قدم ممتاز قادری شہید کی پھانسی بھی اسی متعفن جمہوری نان مسلم لیگ کے زیرِ قبضہ دور حکومت میں ہوئی. اور بدقسمتی سے یہ پھانسی نہ صرف اسلامی قوانین، بلکہ خود رائج الوقت فرنگی مجریہ قوانین کے بھی خلاف دی گئی. اور کسی مذہبی جمہوری پارٹی نے اس کی مخالفت نہیں کی، نہ ہی کسی لنڈے کے انگریز کو انسانی حقوق کی وکالت یاد آئی
علامہ اقبال رح کا تحریکِ آزادی میں کردار تو سب جانتے ہیں.
مگر یومِ اقبال کی چھٹی ختم کرکے نان مسلم لیگ نے یہ ثابت کردیا کہ   "  اقبال تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ"
کے مصداق پاکستان سے دھیرے دھیرے اسلام کا بوریابستر گول کیا جارہا ہے.  بغضِ اقبال میں اس حد تک گِری ہوئی جمہوریت سے ایسے ہی اقدامات کی توقع رکھی جاسکتی ہے. مگر افسوس ان علماء پر ہے، جو ایسی گھٹیا حمہوریت کے خلاف آواز بلند کرنے کی بجائے، اس کے اتحادی بنے ہیں، اس کا حصہ بنے ہیں. ممکن ہے آئندہ کچھ عرصے تک عیدین و یومِ آزادی کی چھٹیاں بھی ختم کردی جائیں، اور آخر میں ایک نئی چھٹی رائج کردی جائے " یومِ غلامی" کے نام سے.
اقبال رح سے نفرت کی انتہا کرنے والی نان مسلم لیگ کے تمام
لیڈروں اور اتحادیوں کے لیے میری طرف سے  یومِ اقبال کے موقع پر دِل گہرائیوں سے "لعنت" پیشِ خدمت ہے. تمام دشمنانِ اقبال فراخ دلی سے قبول فرمائیں. بہت شکریہ
("اِظہارِ رائے" سے اقتباس)

پیر، 6 نومبر، 2017

ماحولیاتی آلودگی

ماحولیاتی آلودگی
آب وہوا اور پانی میں مضرِ صحت جراثیم،دھوئیں، کیمیکل اور گیسوں کی آمیزش ہونا ماحولیاتی آلودگی کہلاتا ہے.
خالص صاف ستھری ہوا اور پانی انسانوں سمیت تمام مخلوقات کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے.
آلودگی کی وجہ سے بہت سی بیماریاں شروع ہوجاتی ہیں، جن میں سے بعض مہلک بھی ثابت ہوجاتی ہیں.
دھوئیں، گردوغبار اور زہریلی گیسوں سے آلودہ ہوا سے عام طور آنکھوں اور سانس کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں. دنیا میں سالانہ ہزاروں لوگوں کی سانس کی بیماریوں میں موت ہوجاتی ہے.
کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے. بہت سے لوگ گرمی کی وجہ سے بیمار ہوجاتے ہیں. فریج اور اے سی کی گیس اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچا رہی ہے، جس کی وجہ سے جِلدی امراض اور کینسر میں اضافہ ہوتا جارہا ہے. پانی میں فیکٹریوں کے زہریلے کیمیکل اور جراثیم شامل ہونے کی وجہ سے پیٹ کے امراض جنم لیتے ہیں.
فضائی آلودگی اگر ایک حد تک ہو، تو فطرت نے اس کی قدرتی صفائی کا انتظام کر رکھا ہے. درخت اور بارش ہوا کو صاف کرتے ہیں. مگر اب گزشتہ بیس سال کے دوران یہ توازن بگڑتا جارہا ہے. صفائی کی نسبت  کئی گنا زیادہ آلودگی پیدا کی جارہی ہے. درختوں کو ختم کرنے سے صفائی کی شرح میں مسلسل کمی ہوتی جارہی ہے.
ماحولیاتی آلودگی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے، مگر اس کو حل کرنا ہر ملک کے مقتدر طبقے کی ذمہ داری ہے.
بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کا سبب جدید انسان ہیں.
چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں.
ایندھن سے چلنے والی گاڑیاں سب سے زیادہ آلودگی پھیلا رہی ہیں.
جیسے جیسے گاڑیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، آلودگی بھی بڑھ رہی ہے.
بارود کا بے جا استعمال بھی ایک وجہ ہے. بعض علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے. فاسفورس بمباری، کارپٹ بمباری، دھماکے  بھی فضا کو آلودہ کررہے ہیں.
مِلوں اور کارخانوں سے زہریلے کیمیائی مادوں اور دھوئیں کا اخراج بھی صنعتی ترقی کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے.
 کوئلے کے بجلی گھر سے خارج ہونے والا دھواں  اور زہریلے ذرات ہوا کو بھی آلودہ کرتے ہیں، پانی کو بھی، اور زمین کو بھی. ان کی وجہ سے زمین کی زرخیزی بھی شدید متاثر ہوتی ہے. اور اس سے پیدا ہونے والی فصل انسانوں اور جانوروں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے.
فریج اور اے سی کا استعمال اشرافیہ کے لیے ناگزیر حیثیت اختیار کرچکا ہے، ان میں استعمال ہونے والی گیس کی تبدیلی کے وقت احتیاط نہیں برتی جاتی. یہ گیس اوزوں کی تہہ کو سخت نقصان پہنچارہی ہے. اوزون کی تہہ سورج کی روشنی میں موجود خطرناک شعاؤں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے. آسمان کا نیلا رنگ دراصل اوزون ہے.
بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی اور ہریالی کا خاتمہ بھی ماحول کو نقصان پہنچا رہا ہے. آکیسجن کی پیداوار میں کمی ہورہی ہے. جس سے نظام تنفس کے مسائل پیدا ہورہے ہیں.
حکومت کی طرف سے ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کے اقدامات کی عدم موجودگی اور اس حوالے سے آگہی نہ ہونا بھی تشویشناک ہے.
ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنا مشکل ہے، مگر کم کیا جاسکتا ہے. اس کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے.
سب سے پہلے ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے. موٹرسائیکل کی پیداوار پر پابندی لگائی جائے. اور اس کی جگہ پاؤں سے چلنے والے سائیکل کو فروغ دیا جائے. سائیکل کی صنعت پر ٹیکس ختم کیے جائیں.  ایندھن سے چلنے والی کاروں کی درآمد وپیداوار پر بھی سخت پابندی لگائی جائے. اور ان کی جگہ برقی کاروں کی درآمد و پیداوار کی حوصلہ افزائی کی جائے، ایندھن کی بجائے بجلی سے چلنے والی ریل گاڑیاں  مہیا کی جائیں.
ایندھن یا کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر ختم کرکے ڈیم بنائے جائیں، شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جائے، یا پھر ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے انتظام کیے جائیں.
کارخانوں کے لیے قانون سازی کی جائے کہ وہ دھوئیں کو فلٹر کریں. زہریلے کیمیائی مادوں کو نہروں میں نہ ڈالیں، کیمیائی مادوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لیے انتظام کریں، یا پھر کم از کم  ان کو کیمیائی عمل کے ذریعے
 ایسے کیمیائی مادوں میں تبدیل کرکے خارج کریں جو نقصان دہ ثابت نہ ہوں.
ان تمام اقدامات کے علاوہ سب سے اہم قدم تعلیم وتربیت ہے. عوام کو ماحولیاتی آلودگی کے اثرات، نقصانات، اسباب اور اسے کم کرنے کے اقدامات سے آگاہ کرنے لیے تعلیمی اداروں میں مہم چلائی جائے. اور میڈیا کے ذریعے بھی اس کی تشہیر کی جائے.
(اِظہارِ رائے)

جمعہ، 3 نومبر، 2017

یزیدی اسمبلی کا اہم اجلاس

اسپیکر اسمبلی:
 یزیدِ اعظم  نے اسمبلی میں یہ اہم مدعا اٹھایا ہے.
کوئی حل نکالو، غربت نے ہمارا جینا حرام بنایا ہے.
حکومت کی بدنامی ہے، اوپر الیکشن سر پر آیا ہے.
یہ بہت اہم مسئلہ ہے، اسی لیے یہ اجلاس بُلایا ہے.
وزیرِ خزانہ:
اگر غربت مٹانی ہے تو، غریبوں پر ٹیکس بڑھا دو،
ہر سانس پر، ہر دھڑکن پر  بھی ٹیکس لگا دو.
روٹی مہنگی کر دو ، زہر سستی،  مفت انٹرنیٹ چلا دو.
دوائیں نہ ملیں، منشیات ملے، کچھ ایسا کرکے دکھا دو.
وزیرِ خارجہ:
دشمن سے دوستی کر لو. بہتر ہو جائیں گے حالات.
امریکہ کی غلامی کر لو، اور انڈیا سے مذاق رات.
فوجی بھرتی بند کرو، کم ہو جائیں گے ملکی اخراجات.
عوام کو فرقوں میں الجھا دو، دکھا کے  سبز باغات.
وزیر داخلہ:
،دہشت گردی شروع کروا دو، تو غریب مر جائیں گے.
ہسپتال کو تالا لگوادو، زخمی وہاں گزر جائیں گے.
باقی وہ ڈرون حملوں میں جل کر بکھر جائیں گے.
میڈیا کو لفافہ تھماؤ، عیادت کو گھر گھر جائیں گے.
اپوزیشن لیڈر:
آسان حل بتاؤں، غریب جعلی پولیس مقابلوں میں مریں گے.
جو بچے، وہ موسم برسات کے سیلابوں میں مریں گے.
فرقہ پرستی پھیلا دو ، فتوے کے حسابوں میں مریں گے.
قانون اندھا رہے، پڑھے لکھے لوگ کتابوں میں مریں گے.
یزیدِاعظم:
تم نے اچھے مشورے دیے،  میرے دوستو، بہت شکریہ مہربانی 
میں اس ذہنی غلام قوم کی جانتا ہوں ہر پریشانی
ووٹ دیتے ہیں، گالیاں بھی، یہ ہے اس کی نشانی.
یہ قوم برائے فروخت ہے، اور قیمت ایک پلیٹ بریانی.

حکومت قائم ، فقط ذلت سے ہے، شرم و حیا کچھ نہیں.
کُرسی سلامت ہے، غلامیِ فرنگی سے، وطن و وفا کچھ نہیں.
منافقت، اب سیاست ٹھہری، اور منافقت کی انتہا کچھ نہیں.
 جمہوریت کا یہ نظام، محض یزیدیت کے سوا کچھ نہیں.

****** ضربِ تنہاؔ******